(۱۵۷۳۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا وَرْقَاء ُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ {وَالْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ أَوْلاَدَہُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ} قَالَ یَعْنِی الْوَالِدَاتِ الْمُطَلَّقَاتِ {لاَ تُضَارَّ وَالِدَۃٌ بِوَلَدِہَا} یَقُولُ : لاَ تَأْبَی أَنْ تُرْضِعَہُ ضِرَارًا یَشُقُّ عَلَی أَبِیہِ {وَلاَ مَوْلُودٌ لَہُ بِوَلَدِہِ} یَقُولُ وَلاَ یُضَارَّ الْوَالِدُ بِوَلَدِہِ فَیَمْنَعُ أُمَّہُ أَنْ تُرْضِعَہُ لِیُحْزِنَہَا بِذَلِکَ {وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِکَ} قَالَ یَعْنِی الْوَلِیَّ مَنْ کَانَ {فإِنْ أَرَادَا فِصَالاً عَنْ تَرَاضٍ مِنْہُمَا وَتَشَاوُرٍ} غَیْرَ مُسِیئِینَ فِی ظُلْمِ أَنْفُسِہِمَا وَلاَ إِلَی صَبِیِّہِمَا دُونَ الْحَوْلَیْنِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِمَا {وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلاَدَکُمْ} خِیفَۃَ الضَّیْعَۃِ عَلَی الصَّبِیِّ {فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَا آتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ} یَعْنِی بِحِسَابِ مَا أُرْضِعَ الصَّبِیُّ۔ [ضعیف]
(١٥٧٣٨) مجاہد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان { وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ }[البقرۃ ٢٢٣] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد طلاق شدہ دودھ پلانے والیاں ہیں۔ { لَا تُضَآرَّ وَالِدَۃٌ بِوَلَدِھَا } [البقرۃ ٢٢٣] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اس کو دودھ پلانے سے انکار نہ کریں تکلیف دیتے ہوئے کہ وہ اپنے باپ پر بوجھ بنے۔ { وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّہٗ بِوَلَدِہٖ }[البقرۃ ٢٢٣] کے بارے میں کہتے ہیں کہ والد اپنے بچے ساتھ تکلیف نہ دیا جائے کہ وہ اس کی ماں کو دودھ پلانے سے روکے تاکہ وہ اس کے ساتھ اس کو تکلیف دینا چاہتا ہو۔ { وَ عَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ }[البقرۃ ٢٢٣] کے بارے میں کہا : یعنی ولی جو بھی ہو { فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْھُمَا وَ تَشَاوُرٍ } [البقرۃ ٢٢٣] ۔۔۔ { اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْٓا اَوْلَادَکُمْ } [البقرۃ ٢٢٣] کے بارے میں کہتے ہیں : بچے پر ضائع ہونے کے خوف سے { فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّآ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ }[البقرۃ ٢٢٣] کے بارے میں کہتے ہیں : یعنی حساب کے ساتھ جو بچے کو دودھ پلایا گیا ہو۔