(۱۵۷۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : جَنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جَنَاحٍ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُسَیْنِ بْنِ أَبِی الْحُنَیْنِ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شُبْرُمَۃَ عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیرٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیُّ النَّاسِ أَحَقُّ مِنِّی بِحُسْنِ الصُّحْبَۃِ؟ قَالَ : أُمُّکَ ۔ قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : ثُمَّ أُمُّکَ ۔ قَالَ : ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ : ثُمَّ أُمُّکَ ۔ قَالَ : ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أَبُوکَ ۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ شُبْرُمَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٧٥٥) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے حسن سلوک کا لوگوں میں سے زیادہ حق دار کون ہے ؟ فرمایا : تیری والدہ۔ پوچھا پھر کون ؟ فرمایا پھر تیری والدہ پوچھا : پھر کون ؟ فرمایا : تیری والدہ۔ ان دونوں نے اس کو صحیح میں ابن شبرمہ کی حدیث سے نقل کیا ہے۔