(۱۵۷۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمَحْمُودِیُّ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ طَلَّقَ أُمَّ عَاصِمٍ فَکَانَ فِی حَجْرِ جَدَّتِہِ فَخَاصَمَتْہُ إِلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَضَی أَنْ یَکُونَ الْوَلَدُ مَعَ جَدَّتِہِ وَالنَّفَقَۃُ عَلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَالَ : ہِیَ أَحَقُّ بِہِ۔ [ضعیف]
(١٥٧٦٦) مسروق کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے ام عاصم کو طلاق دے دی اور عاصم اپنی نانی کی گود میں تھے تو حضرت عمر اور وہ عورت ابوبکر (رض) کے پاس فیصلہ لائے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فیصلہ فرمایا کہ بچہ نانی کے ساتھ رہے گا اور خرچہ حضرت عمر دیں گے اور فرمایا : یہ بچے کی زیادہ حق دار ہے۔