hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15776

.

سنن البيهقي

15776
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۷۷۰) قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَحَدَّثَنِی ہَانِئُ بْنُ ہَانِئٍ وَہُبَیْرَۃُ بْنُ یَرِیمَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : فَاتَّبَعَتْہُمْ ابْنَۃُ حَمْزَۃَ تُنَادِی یَا عَمِّ یَا عَمِّ فَتَنَاوَلَہَا عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَخَذَ بِیَدِہَا وَقَالَ لِفَاطِمَۃَ عَلَیْہَا السَّلاَمُ : دُونَکِ ابْنَۃَ عَمِّکِ ۔ فَحَمَلَتْہَا فَاخْتَصَمَ فِیہَا عَلِیٌّ وَزِیدُ بْنُ حَارِثَۃَ وَجَعْفَرُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَا أَخَذْتُہَا وَبِنْتُ عَمِّی ۔ وَقَالَ جَعْفَرٌ : بِنْتُ عَمِّی وَخَالَتُہَا عِنْدِی وَقَالَ زَیْدٌ : ابْنَۃُ أَخِی۔ فَقَضَی بِہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِخَالَتِہَا وَقَالَ : الْخَالَۃُ بِمَنْزِلَۃِ الأُمِّ ۔ وَقَالَ لِزَیْدٍ : أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلاَنَا ۔ فَحَجَلَ وَقَالَ لِجَعْفَرٍ : أَنْتَ أَشْبَہُہُمْ بِی خَلْقًا وَخُلُقًا ۔ فَحَجَلَ وَرَائَ حَجْلِ زَیْدٍ ثُمَّ قَالَ لِی : أَنْتَ مِنِّی وَأَنَا مِنْکَ ۔ فَحَجَلْتُ وَرَائَ حَجْلِ جَعْفَرٍ قَالَ وَقُلْتُ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- : أَلاَ تَزَوَّجُ بِنْتَ حَمْزَۃَ؟ قَالَ : إِنَّہَا ابْنَۃُ أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ ۔ وَیُحْتَمَلُ أَنْ تَکُونَ رِوَایَۃُ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ فِی قِصَّۃِ ابْنَۃِ حَمْزَۃَ مُخْتَصَرَۃً کَمَا رُوِّیْنَا ثُمَّ رَوَاہَا عَنْہُمَا عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَتَمَّ مِنْ ذَلِکَ کَمَا رُوِّیْنَا فَقِصَّۃُ الْحَجْلِ فِی رِوَایَتِہِمَا دُونَ رِوَایَۃِ الْبَرَائِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ وَرُوِّیْنَا ہَذِہِ الْقِصَّۃَ أَیْضًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعِ بْنِ عُجَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٧٧٠) علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کی عنہ کی بیٹی چچا چچا کی صدائیں لگاتی ہوئی پیچھے آگئی۔ میں نے اسے پکڑ اور حضرت فاطمہ کے حوالے کردیا تو حضرت علی، زید بن حارثہ اور جعفر (رض) کے درمیان اختلاف ہوگیا۔ حضرت علی کہنے لگے : میں نے اسے پکڑا ہے اور میرے چچا کی بیٹی ہے۔ جعفر کہنے لگے : میرے بھی چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے۔ زید کہنے لگے : میرے بھائی کی بیٹی ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالہ کے حق میں فیصلہ دیا اور فرمایا : خالہ ماں کے قائم مقام ہوتی ہے اور زید کو فرمایا : تو ہمارا بھائی اور مولا ہے، وہ پاؤں کے بل پیچھے ہٹ گئے۔ پھر حضرت جعفر کو فرمایا : تو میرے ساتھ تخلیق اور اخلاق میں سب سے زیادہ مشابہ ہے تو وہ بھی ایک پاؤں کے بل زید کے پیچھے ہوگئے اور حضرت علی کو فرمایا : تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے تو وہ حضرت جعفر کے پیچھے ہوگئے تو حضرت علی فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ حضرت حمزہ کی بیٹی سے شادی کرلیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ ممکن ہے جو ابو اسحاق کی براء سے روایت ہے اس میں بنت حمزہ کا واقعہ مختصر ہو اور پھر حضرت علی سے مکمل بیان کیا گیا ہو اور پاؤں کے بل پیچھے ہٹنے کا قصہ اسی روایت میں ہے براء کی روایت میں نہیں۔