(۱۵۷۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا جَائَ خَادِمُ أَحَدِکُمْ بِطَعَامِہِ فَلْیُجْلِسْہُ مَعَہُ فَإِنْ لَمْ یَفْعَلْ فَلْیُنَاوِلْہُ أُکْلَۃً أَوْ أُکْلَتَیْنِ فَإِنَّہُ وَلِیَ دُخَانَہُ وَحَرَّہُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْہَالٍ وَغَیْرِہِ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَہَذَا یَدُلُّ عَلَی مَا وَصَفْنَا مِنْ تَبَایُنِ طَعَامِ الْمَمْلُوکِ وَطَعَامِ سَیِّدِہِ۔
(١٥٧٨٠) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب کسی کا خادم اس کے لیے کھانا لائے تو اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا لے۔ اگر ساتھ نہ بٹھائے تو ایک یا دو لقمے اسے ضرور دے دے۔ کیونکہ کھانا بناتے ہوئے گرمی اور دھواں اس نے برداشت کیا ہے۔
یہ حدیث امام شافعی (رح) کی اس بات کی دلیل ہے جو پچھلی حدیث کے اختتام پر بیان فرمائی تھی۔