(۱۵۷۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : کَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِیُّ وَأَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَیُّوبَ الصِّبْغِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَمِّہِ أَبِی سُہَیْلٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ فِی خُطْبَتِہِ : لاَ تُکَلِّفُوا الصَّغِیرَ الْکَسْبَ فَإِنَّکُمْ مَتَی کَلَّفْتُمُوہُ الْکَسْبَ سَرَقَ وَلاَ تُکَلِّفُوا الأَمَۃَ غَیْرَ ذَاتِ الصَّنْعَۃِ الْکَسْبَ فَإِنَّکُمْ مَتَی کَلَّفْتُمُوہَا الْکَسْبَ کَسَبَتْ بِفَرْجِہَا۔
لَفْظُ حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ زَادَ ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ فِی رِوَایَتِہِ: وَعِفُّوا إِذْ أَعَفَّکُمُ اللَّہُ وَعَلَیْکُمْ مِنَ الْمَطَاعِمِ بِمَا طَابَ مِنْہَا۔ رَفَعَہُ بَعْضُہُمْ عَنْ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ وَرَفْعُہُ ضَعِیفٌ۔ [صحیح]
(١٥٧٨٥) ابو سہیل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) کو خطبہ دیتے ہوئے سنا کہبچوں کو کمائی کی تکلیف نہ دو؛ کیونکہ اگر تم انھیں تکلیف دو گے تو وہ چوری کریں گے اور ایسی لونڈی جو کوئی کام نہیں جانتی اسے کمائی پر نہ لگاؤ؛کیونکہ وہ پھر اپنی فرج کی کمائی ہی سے لائے گی اور ابن ابی اویس کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ جیسے اللہ تم سے درگزر کرتا ہے تم بھی ان سے درگزر کرو اور انھیں اپنی طاقت کے مطابق اچھا کھانا کھلاؤ۔