(۱۵۸۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ سُوَیْدٍ قَالَ : لَطَمْتُ مَوْلًی لَنَا ثُمَّ ہَرَبْتُ قُبَیْلَ الظُّہْرِ فَصَلَّیْتُ خَلْفَ أَبِی فَدَعَاہُ وَدَعَانِی ثُمَّ قَالَ : اقْتَصَّ مِنْہُ فَعَفَا ثُمَّ قَالَ کُنَّا بَنِی مُقَرِّنٍ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لَیْسَ لَنَا إِلاَّ خَادِمٌ وَاحِدٌ فَلَطَمَہُ أَحَدُنَا فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : أَعْتِقُوہَا ۔ قَالُوا لَیْسَ لَہُمْ خَادِمٌ غَیْرُہَا قَالَ : فَلْیَسْتَخْدِمُوہَا فَإِذَا اسْتَغْنَوْا عَنْہَا فَخَلُّوا سَبِیلَہَا۔ [صحیح]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ وَفِی ہَذَا کَالدَّلاَلَۃِ عَلَی أَنَّ الأَمْرَ بِالإِعْتَاقِ أَمْرُ نَدْبٍ وَاسْتِحْبَابٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
(١٥٨٠٦) معاویہ بن سوید کہتے ہیں : میں نے اپنے غلام کو تھپڑ مار دیا، پھر ظہر کی نماز کے لیے اپنے والد کے پیچھے چلا گیا۔ میرے والد نے نماز پڑھائی اور پھر مجھے بلایا اور کہنے لگے : ہم بنی مقرن عہد رسالت میں سات بھائی تھے ہمارا ایک ہی غلام تھا ایک بھائی نے اسے تھپڑ مار دیا تو آپ نے ساتوں کو حکم دیا اسے آزاد کر دو ۔ ہم نے عرض کیا کہ اس کے علاوہ ہمارا کوئی غلام نہیں ہے تو کام کون کرے گا تو آپ نے فرمایا : ٹھیک ہے اس سے کام کرواؤ جب یہ کام سے فارغ ہوجائے تو پھر اسے آزاد چھوڑ دو ۔
صحیح مسلم میں ابوبکر بن ابی شیبہ سے ہے کہ یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ آزاد کرنے کا حکم وجوب کے لیے نہیں ہے بلکہ مستحب ہے۔ واللہ اعلم۔