(۱۵۸۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ حَدَّثَنَا مَہْدِیُّ بْنُ مَیْمُونٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی یَعْقُوبَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : أَرْدَفَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ یَوْمٍ خَلْفَہُ فَأَسَرَّ إِلَیَّ حَدِیثًا لاَ أُحَدِّثُ بِہِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ وَکَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِحَاجَتِہِ ہَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ یَعْنِی حَائِطًا قَالَ فَدَخَلَ حَائِطًا لِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَإِذَا فِیہِ جَمَلٌ فَلَمَّا رَأَی النَّبِیَّ -ﷺ- ذَرَفَتْ عَیْنَاہُ قَالَ فَأَتَاہُ النَّبِیُّ -ﷺ- فَمَسَحَ سَرَاتَہُ إِلَی سَنَامِہِ وَذِفْرَیْہِ فَسَکَنَ قَالَ : مَنْ رَبُّ ہَذَا الْجَمَلِ لِمَنْ ہَذَا الْجَمَلُ ۔ قَالَ فَجَائَ فَتًی مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ ہُوَ لِی یَا رَسُولَ اللَّہِ فَقَالَ : أَلاَ تَتَّقِی اللَّہَ فِی ہَذِہِ الْبَہِیمَۃِ الَّتِی مَلَّکَکَ اللَّہُ إِیَّاہَا فَإِنَّہَا تَشْکُو إِلَیَّ أَنَّکَ تُجِیعُہُ وَتُدْئِبُہُ ۔
أَخْرَجَ مُسْلِمٌ أَوَّلَ الْحَدِیثِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ ۔ [صحیح]
(١٥٨١٤) عبداللہ بن جعفر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا تو مجھ سے کچھ باتیں کی جو میں بتاؤں گا نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی حاجت کے لیے کوئی بلند آڑ یا پھر کھجور کے درختوں کا جھمگٹا پسند فرماتے تھے۔ آپ اپنی حاجت کے لیے ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوگئے تو دیکھا وہاں ایک اونٹ بیٹھا ہے آپ کو دیکھ کر اس اونٹ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ آپ نے اس کی کوہان اور گردن پر ہاتھ پھیرا اور پوچھا : اس کا مالک کون ہے ؟ تو وہ انصاری آیا اور کہا : میرا ہے یا رسول اللہ ! تو آپ نے فرمایا : کیا تو اس جانور کے بارے میں اللہ سے نہیں ڈرتا اللہ نے تجھے اس کا مالک بنایا ہے، اس کا خیال رکھا کر اس اونٹ نے مجھے شکایت کی ہے تو اسے بہت تکلیف دیتا ہے اور تھکا دیتا ہے۔