(۱۵۸۳۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ کَرْدَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ مَلأْتُ حَوْضِی أَنْتَظِرُ بَہِیمَتِی تَرِدُ عَلَیَّ فَلَمْ أَسْتَیْقِظْ إِلاَّ بِرَجُلٍ قَدْ أَشْرَعَ نَاقَتَہُ وَثَلَمَ الْحَوْضَ وَسَالَ الْمَاء ُ فَقُمْتُ فَزِعًا فَضَرَبْتُہُ بِالسَّیْفِ فَقَتَلْتُہُ فَقَالَ لَیْسَ ہَذَا مِثْلَ الَّذِی قَالَ فَأَمَرَہُ بِالتَّوْبَۃِ۔ [ضعیف]
(١٥٨٣٣) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : میں نے اپنا حوض اپنے جانوروں کے لیے بھرا کہ انھیں پانی پلاؤں گا، ایک شخص کی اونٹنی آئی اور اس نے میرے حوض میں شگاف ڈال دیا اور سارا پانی بہہ گیا۔ میں جلدی سے اٹھا اور غصے میں اونٹنی کے مالک کو تلوار سے قتل کر دیاتو ابن عباس نے فرمایا : یہ جان بوجھ کے قتل کرنا نہیں ہے اور اسے توبہ کا حکم دیا۔