(۱۵۸۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ حَدَّثَنَا قُرَّۃُ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا قُرَّۃُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ وَعَنْ رَجُلٍ ہُوَ فِی نَفْسِی أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- خَطَبَ النَّاسَ بِمِنًی فَقَالَ : أَتَدْرُونَ أَیُّ یَوْمٍ ہَذَا؟ قَالَ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ۔ قَالَ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ یُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ ثُمَّ قَالَ : أَلَیْسَ یَوْمُ النَّحْرِ؟ قُلْنَا: نَعَمْ۔ قَالَ : أَیُّ بَلَدٍ ہَذَا؟ ۔ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ۔ قَالَ : أَلَیْسَ بِالْبَلَدِ؟ ۔ یَعْنِی الْحَرَامَ قُلْنَا : بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ : فَإِنَّ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ وَأَبْشَارَکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا فِی شَہْرِکُمْ ہَذَا أَلاَ ہَلْ بَلَّغْتُ؟ ۔ قُلْنَا : نَعَمْ۔ قَالَ : اللَّہُمَّ اشْہَدْ لِیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ فَإِنَّہُ رُبَّ مُبَلَّغٍ یُبَلِّغُہُ مَنْ ہُوَ أَوْعَی لَہُ فَکَانَ کَذَلِکَ وَقَالَ أَلاَ لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِی کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَبَلَۃَ وَغَیْرِہِ کُلُّہُمْ عَنْ أَبِی عَامِرٍ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ کِلاَہُمَا عَنْ یَحْیَی الْقَطَّانِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٨٤٨) ابو بکرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ نے منیٰ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا : کیا تم جانتے ہو آج کون سا دن ہے ؟ ہم نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ خاموش ہوگئے، ہم نے سمجھا کہ آپ اس کا کوئی اور نام لیں گے۔ پھر فرمایا : کیا آج قربانی کا دن نہیں ؟ ہم نے کہا : جی ہاں ! پھر پوچھا : یہ کون سا شہر ہے ؟ ہم نے کہا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا : کیا یہ حرمت والا شہر نہیں ہے ؟ ہم نے کہا : کیوں نہیں، یا رسول اللہ ! تو آپ نے فرمایا : تمہارا خون تمہارے مال تمہاری عزتیں اس شہر اور اس دن کی حرمت کی طرح قابل احترام ہیں۔ کیا میں نے تمہیں پہنچا دیا ؟ ہم نے کہا : جی ہاں ! تو فرمایا : اے اللہ ! کے گواہ بن جا۔ حاضر غائب کو یہ بات بتادے، کیونکہ کتنے پہنچانے والے ہیں جن سے وہ لوگ زیادہ یاد رکھتے ہیں کہ جن کو پہنچائی جائے۔ پھر فرمایا : میرے بعد کفر میں نہ لوٹ جانا اور پھر تم آپس میں قتل و غارت کرو۔