(۱۵۸۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیِّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ أَبْجَرَ عَنْ إِیَادِ بْنِ لَقِیطٍ عَنْ أَبِی رِمْثَۃَ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِی عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَرَأَی أَبِی الَّذِی بِظَہْرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : دَعْنِی أُعَالِجِ الَّذِی بِظَہْرِکَ فَإِنِّی طَبِیبٌ فَقَالَ : أَنْتَ رَفِیقٌ ۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ ہَذَا مَعَکَ؟ ۔ قَالَ : ابْنِی أَشْہَدُ بِہِ۔ فَقَالَ : أَمَا إِنَّہُ لاَ یَجْنِی عَلَیْکَ وَلاَ تَجْنِی عَلَیْہِ ۔ [صحیح]
(١٥٨٩٧) ابی رمثہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، میرے والد نے آپ کی پیٹھ دیکھی اور کہنے لگا : میں طبیب ہوں، میں آپ کی اس پیٹھ ” مہرِ نبوت “ کا علاج کروں تو آپ نے فرمایا : تو طبیب نہیں ” رفیق “ ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تیرے ساتھ کون ہے ؟ میں نے کہا : میرا بیٹا ہے اور میں اس پر قسم اٹھاتا ہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اس پر ظلم نہ کرنا یہ تجھ پر ظلم نہ کرے گا۔