(۱۵۹۱۲) فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِی جَمِیعًا عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- النَّاسَ عَامَ الْفَتْحِ فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّہُ مَا کَانَ مِنْ حِلْفٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَإِنَّ الإِسْلاَمَ لَمْ یَزِدْہُ إِلاَّ شِدَّۃً وَلاَ حِلْفَ فِی الإِسْلاَمِ وَالْمُسْلِمُونَ یَدٌ عَلَی مَنْ سِوَاہُمْ یَسْعَی بِذِمَّتِہِمْ أَدْنَاہُمْ یَرُدُّ عَلَیْہِمْ أَقْصَاہُمْ تَرُدُّ سَرَایَاہُمْ عَلَی قَعَدَتِہِمْ لاَ یُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِکَافِرٍ دِیَۃُ الْکَافِرِ نِصْفُ دِیَۃِ الْمُؤْمِنِ لاَ جَلَبَ وَلاَ جَنَبَ وَلاَ تُؤْخَذُ صَدَقَاتُہُمْ إِلاَّ فِی دُورِہِمْ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ یُونُسَ بْنِ بُکَیْرٍ۔ [حسن]
(١٥٩١٢) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنیدادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ والے سال خطبہ ارشاد فرمایا : اے لوگو ! جو جاہلیت میں ایک دوسرے کے حلیف تھے تو اسلام میں حلفیت ختم۔ اب مسلمانوں کی ہی دوسروں کے مقابلے میں مدد کی جائے گی۔ ان کے ادنیٰ کا ذمہ بھی معتبر ہے۔ کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ کافر کی دیت مومن کی نصف دیت کے برابر ہے، نہ خود نقصان اٹھاؤ نہ دوسروں کو دو اور ان کے صدقات نہ لیے جائیں مگر ان کے گھروں میں ہی۔