(۱۵۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ۔
قَالَ وَأَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ یَعْنِی ابْنَ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ فَاطِمَۃَ عَنْ أَسْمَائَ قَالَتْ: کُنَّا فِی حِجْرِہَا مَعَ بَنَاتِ أَخِیہَا ، فَکَانَتْ إِحْدَانَا تَطْہُرُ ثُمَّ تُصَلِّی ، ثُمَّ تَنْتَکِسُ بِالصُّفْرَۃِ الْیَسِیرَۃِ فَتْسَأَلُہَا فَتَقُولُ: اعْتَزِلْنَ الصَّلاَۃَ مَا رَأَیْتُنَّ ذَلِکَ حَتَّی تَرَیْنَ الْبَیَاضَ خَالِصًا۔
[صحیح۔ أخرجہ الدارمی ۸۶۱]
(١٥٩٣) اسماء سے روایت ہے کہ ہم اس کی گود میں ان کے بھتیجوں کے ساتھ تھیں، ہم میں کوئی پاک ہوتی، پھر نماز پڑھتی، پھر دوبارہ زرد خون بہانے لگتی ، انھوں نے اس کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : نماز سے الگ رہو جب تم یہ (زردی) دیکھو جب تک خالص سفیدی نہ دیکھ لو۔