(۱۵۹۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ الصَّیْرَفِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیدِ حَدَّثَنَا ابْنُ مَوْہَبٍ قَالَ سَمِعْتُ مَالِکًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : وُجِدَ فِی قَائِمِ سَیْفِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- کِتَابَانِ فَذَکَرَ أَحَدَہُمَا قَالَ وَفِی الآخَرِ : الْمُؤْمِنُونَ تَکَافَأُ دِمَاؤُہُمْ وَیَسْعَی بِذِمَّتِہِمْ أَدْنَاہُمْ لاَ یُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِکَافِرٍ وَلاَ ذُو عَہْدٍ فِی عَہْدِہِ وَلاَ یَتَوَارَثُ أَہْلُ مِلَّتَیْنِ وَلاَ تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلَی عَمَّتِہَا وَلاَ عَلَی خَالَتِہَا وَلاَ صَلاَۃَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلاَ تُسَافِرُ الْمَرْأَۃُ ثَلاَثَ لَیَالٍ إِلاَّ مَعَ ذِی مَحْرَمٍ ۔ ابْنُ مَوْہَبٍ ہُوَ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْہَبٍ وَمَالِکٌ ہُوَ ابْنُ أَبِی الرِّجَالِ وَأَبُو الرِّجَالِ ہُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِیُّ الَّذِی رَوَی عَنْہُ ابْنُہُ مَالِکٌ۔ [ضعیف]
(١٥٩١٥) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ کی میان سے دو خط ملے، جن میں سے ایک میں یہ لکھا تھا کہ مومنوں کے خون برابر ہیں اور ان کے ادنیٰ کا ذمہ بھی معتبر ہے اور کسی مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور کافر مسلمان اور مسلمان کافر کا وارث نہیں ہے۔ پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی ایک نکاح میں اکٹھی نہیں ہوسکتیں، عصر کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے۔ تین راتوں یا اس سے زیادہ سفر عورت محرم کے بغیر نہیں کرسکتی۔