(۱۵۹۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا کَانَا یَقُولاَنِ : لاَ یُقْتَلُ الْمُؤْمِنُ بِعَبْدِہِ وَلَکِنْ یُضْرَبُ وَیُطَالُ حَبْسُہُ وَیُحْرَمُ سَہْمَہُ۔ أَسَانِیدُ ہَذِہِ الأَحَادِیثِ ضَعِیفَۃٌ لاَ یَقُومُ بِشَیْئٍ مِنْہَا الْحِجَّۃُ إِلاَّ أَنَّ أَکْثَرَ أَہْلِ الْعِلْمِ عَلَی أَنْ لاَ یُقْتَلَ الرَّجُلُ بِعَبْدِہِ وَقَدْ رُوِّینَاہُ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ وَالشَّعْبِیِّ وَالزُّہْرِیِّ وَغَیْرِہِمْ۔ [ضعیف]
(١٥٩٥٤) عمرو بن شعیب فرماتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر (رض) فرمایا کرتے تھے کہ آزاد کو غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، البتہ کوڑے مارے جائیں گے قید میں ڈالا جائے گا، اور اس کا مسلمانوں سیحصہ ختم کردیا جائے گا۔ یہ تمام کی تمام سندیں ضعیف ہیں جن سے حجت پکڑی نہیں جاسکتی۔ اکثر اہل علم کا مذہب یہ ہے کہ کسی شخص کو اس کے غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔