(۱۵۹۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَتَلَ نَفَرًا خَمْسَۃً أَوْ سَبْعَۃً بِرَجُلٍ قَتَلُوہُ قُتِلَ غِیلَۃً وَقَالَ : لَوْ تَمَالأَ عَلَیْہِ أَہْلُ صَنْعَائَ لَقَتَلْتُہُمْ جَمِیعًا۔ [صحیح]
(١٥٩٧٣) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے پانچ یا سات آدمیوں کو ایک شخص کے بدلے میں قصاصاً قتل کیا، جس کو انھوں نے دھوکے سے قتل کردیا تھا اور فرمایا : اگر تمام اہل صنعاء اس کے قتل میں شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کردیتا۔