(۱۵۹۷۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَتَلَ سَبْعَۃً مِنْ أَہْلِ صَنْعَائَ اشْتَرَکُوا فِی دَمِ غُلاَمٍ وَقَالَ : لَوْ تَمَالأَ عَلَیْہِ أَہْلُ صَنْعَائَ لَقَتَلْتُہُمْ جَمِیعًا۔ قَالَ الشَّیْخُ : ہَذَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیُّ وَالأَوَّلُ یَحْیَی الْقَطَّانُ۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ مُغِیرَۃُ بْنُ حَکِیمٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ أَرْبَعَۃً قَتَلُوا صَبِیًّا فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِثْلَہُ۔ [صحیح]
(١٥٩٧٥) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : حضرت عمر نے صنعاء کے سات آدمیوں کو جو ایک بچے کے قتل میں ملوث تھے قتل کروایا اور فرمایا : اگر سارے اہل صنعاء اس میں شریک ہوتیتو میں سب کو قتل کروا دیتا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ یہ یحییٰ بن سعید کی روایت ہے اور پہلے یحییٰ قطان تھے اور بخاری میں ٤ آدمیوں کا ذکر ہے۔