(۱۶۰۰۳) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الدَّارَکِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَحْیَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ الْمَخْزُومِیُّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : وَشِبْہُ الْعَمْدِ مُغَلَّظَۃٌ وَلاَ یُقْتَلُ بِہِ صَاحِبُہُ وَذَلِکَ أَنْ یَنْزُوَ الشَّیْطَانُ بَیْنَ الْقَبِیلَۃِ فَیَکُونُ بَیْنَہُمْ رِمِّیَّا بِالْحِجَارَۃِ فِی عِمِّیَّا فِی غَیْرِ ضَغِینَۃٍ وَلاَ حَمْلِ سِلاَحٍ ۔ [ضعیف]
(١٦٠٠٣) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شبہ العمد میں دیت مغلظہ ہے اس میں قصاصاً قتل نہیں کیا جائے گا یہ تو شیطان ان قبیلوں کے درمیان لڑائی کروانا چاہتا ہے۔ یہ ایسے ہوتا ہے کہ کوئی تیر غلطی سے آ کر کسی کو لگ جائے اور اس کا بالکل بھی مارنے کا ارادہ نہ ہو۔