(۱۶۰۲۱) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْدَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ الْمُغِیرَۃِ السَّعْدِیُّ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ رَجُلاً ضَاحِکًا مَلِیحًا قَالَ فَبَیْنَمَا ہُوَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یُحَدِّثُ الْقَوْمَ وَیُضْحِکُہُمْ فَطَعَنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِإِصْبَعِہِ فِی خَاصِرَتِہِ فَقَالَ : أَوْجَعْتَنِی۔ قَالَ : اقْتَصَّ ۔
قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ عَلَیْکَ قَمِیصًا وَلَمْ یَکُنْ عَلَیَّ قَمِیصٌ۔ قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَمِیصَہُ فَاحْتَضَنَہُ ثُمَّ جَعَلَ یُقَبِّلُ کَشْحَہُ فَقَالَ : بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَدْتُ ہَذَا۔ [صحیح]
(١٦٠٢١) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے والد نقل فرماتے ہیں کہ اسید بن حضیر بڑے خوش طبع اور ہنس مکھ آدمی تھے۔ ایک مرتبہ آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے تھے اور کسی قوم کے بارے میں باتیں کر کے آپ کو ہنسا رہے تھے تو آپ نے اس کے پہلو میں انگلی ماری تو وہ کہنے لگے : آپ نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔ فرمایا : قصاص لے لو۔ تو وہ فرمانے لگے : آپ نے قمیض پہنی ہوئی ہے اور مجھ پر قمیض نہیں ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قمیض اوپر اٹھائی تو وہ آپ کے جسم سے چمٹ گئے اور چومنے لگے اور فرمانے لگے : یا رسول اللہ میرا یہی ارادہ تھا۔