(۱۶۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ قَالَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَی أَنَسُ بْنُ سِیرِینَ قَالَ: اسْتُحِیضَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ آلِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فَأَمَرُونِی فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ إِذَا رَأَتِ الدَّمَ الْبَحْرَانِیَّ فَلاَ تُصَلِّ ، وَإِذَا رَأَتِ الطُّہْرَ وَلَوْ سَاعَۃً مِنَ النَّہَارِ فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتُصَلِّ۔
وَقَرَأْتُہُ فِی کِتَابِ ابْنِ خُزَیْمَۃَ عَنْ زِیَادِ بْنِ أَیُّوبَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ ابْنِ عُلَیَّۃَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیرِینَ غَیْرَ أَنَّہُ قَالَ: أَمَّا مَا رَأَتِ الدَّمَ الْبَحْرَانِیَّ فَلاَ تُصَلِّی۔ [صحیح]
(١٦٠٥) (الف) انس بن سیرین کہتے ہیں کہ انس بن مالک کے اہل میں سے ایک عورت مستحاضہ تھی، انھوں نے مجھے حکم دیا کہ میں نے اس کے متعلق سیدنا ابن عباس (رض) سے سوال کروں، ابن عباس (رض) نے فرمایا : جب خون بہتا ہوئے دیکھے تو نماز نہ پڑھے اور جب طہر دیکھے اگرچہ دن کی ایک گھڑی میں ہی ہو تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔ (ب) میں نے ابن خزیمہ کی کتاب میں پڑھا ہے (جس کی سند اس طرح ہے) زیاد بن ایوب عن اسماعیل بن علیہ عن خالد فداء عن انس بن سیرین : اگر وہ خون بہتا ہوئے دیکھے تو نماز نہ پڑھے۔