(۱۶۰۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی فُدَیْکٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ الْکَعْبِیِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : إِنَّ اللَّہَ حَرَّمَ مَکَّۃَ وَلَمْ یُحَرِّمْہَا النَّاسُ فَلاَ یَحِلُّ لِمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ یَسْفِکَ بِہَا دَمًا وَلاَ یَعْضِدَ بِہَا شَجَرًا فَإِنِ ارْتَخَصَ أَحَدٌ فَقَالَ أُحِلَّتْ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَإِنَّ اللَّہَ أَحَلَّہَا لِی وَلَمْ یُحِلَّہَا لِلنَّاسِ وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنَ النَّہَارِ ثُمَّ ہِیَ حَرَامٌ کَحُرْمَتِہَا بِالأَمْسِ ثُمَّ أَنْتُمْ یَا خُزَاعَۃُ قَدْ قَتَلْتُمْ ہَذَا الْقَتِیلَ مِنْ ہُذَیْلٍ وَأَنَا وَاللَّہِ عَاقِلُہُ مِنْ قَتَلَ بَعْدَہُ قَتِیلاً فَأَہْلُہُ بَیْنَ خِیَرَتَیْنِ إِنْ أَحَبُّوا قَتَلُوا وَإِنْ أَحَبُّوا أَخَذُوا الْعَقْلَ ۔ [صحیح]
(١٦٠٣٧) ابو شریح کعبی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : مکہ کو اللہ نے حرمت والا بنایا ہے لوگوں نے نہیں تو جس کا اللہ اور یوم آخرت پر ایمان ہے وہ نہ یہاں خون بہائے نہ یہاں کے درخت کاٹے۔ اگر کسی کے لیے اس میں رخصت ہے تو وہ اللہ کے رسول ہیں۔ میرے لیے اللہ نے اسے حلال کیا ہے لوگوں کے لیے نہیں۔ میرے لیے بھی دن کی ایک گھڑی میں حلال ہوا۔ پھر یہ اسی طرح حرمت والا ہے جیسے کل تھا۔ اے بنو خزاعہ ! تم نے بنو ہذیل کے اس شخص کو قتل کردیا اور میں اللہ کی قسم اس کی دیت دینے والا تھا۔ آج کے بعد کوئی بھی قتل کر دے تو اولیاء مقتول کو اختیار ہے کہ وہ چاہیں تو قصاص لے لیں چاہیں تو دیت لے لیں۔