(۱۶۰۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ کَثِیرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَہُ قَالَ : مَنْ قُتِلَ فِی عِمِّیَّۃٍ أَوْ رِمِّیَّۃٍ بَحَجَرٍ أَوْ بِسَوْطٍ أَوْ عَصًا فَعَقْلُہُ عَقْلُ الْخَطَإِ وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَہُوَ قَوَدٌ وَمَنْ حَالَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللَّہِ وَالْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ لاَ یُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ ۔ [صحیح لغیرہ]
(١٦٠٤٤) عبداللہ بن عباس مرفوعاً روایت فرماتے ہیں کہ جو پتھر یا کوڑے یا عصا کے لگنے سے قتل کرے تو اس میں قصاص ہے اور جو اس کے درمیان حائل ہوا تو اس پر اللہ اور اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے نہ اس کا کوئی فرض قبول ہوگا اور نہ نفل۔