(۱۶۰۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ قَالَ لاَ أَعْلَمَہُ إِلاَّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: مَا رُفِعَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قِصَاصٌ قَطٌّ إِلاَّ أَمَرَ فِیہِ بِالْعَفْوِ قَالَ قُلْتُ لِعَفَّانَ مَنْ یَشُکُّ فِیہِ قَالَ قَالَ عَبْدُاللَّہِ کُنْتُ أَقُولُ عَنْ أَنَسٍ فَقَالُوا لِی لاَ تَشُکَّ فِیہِ فَقُلْتُ لاَ أَعْلَمُہُ وَکَانَ رَجُلاً مُتَوَقِّیًا کَیِّسًا۔ [حسن]
(١٦٠٤٩) عطاء بن ابی میمونہ فرماتے ہیں کہ مجھے صرف حضرت انس (رض) سے پتہ چلا کہ جب بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس قصاص کا فیصلہ آیا تو آپ نے اس میں درگزری کا مشورہ دیا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے عفان سے عرض کیا کہ اس میں کس کو شک ہے ؟ فرماتے ہیں : عبداللہ نے فرمایا : میں یہ کہتا تھا کہ عن انس تو انھوں نے فرمایا : اس میں شک نہ کر۔ میں نے کہا : میں اسے نہیں جانتا اور وہ نہایت ذہین اور فطین آدمی تھے۔