(۱۶۰۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ جَارِیَۃً رُضِخَ رَأْسُہَا بَیْنَ حَجَرَیْنِ فَقِیلَ لَہَا مَنْ فَعَلَ ہَذَا بِکِ أَفُلاَنٌ أَفُلاَنٌ حَتَّی سُمِّیَ الْیَہُودِیُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِہَا فَبُعِثَ إِلَی الْیَہُودِیِّ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَرُضِخَ رَأْسُہُ بَیْنَ حَجَرَیْنِ ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہَمَّامِ بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٦٠٨٤) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا، اس سے پوچھا گیا : تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا ہے کیا فلاں فلاں نے ؟ یہاں تک کہ اس یہودی کا نام لیا گیا اس نے سر سے ہاں کا اشارہ کیا تو اس یہودی کو بلایا گیا، اس یہودی نے اعتراف کرلیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان کچل دیا جائے۔