(۱۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِیُّ وَأَبُو عَلِیٍّ: الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیِّ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: أُمِرْنَا بِالسِّوَاکِ وَقَالَ: ((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ یُصَلِّی أَتَاہُ الْمَلَکُ فَقَامَ خَلْفَہُ یَسْتَمِعُ الْقُرْآنَ وَیَدْنُو ، فَلاَ یَزَالُ یَسْتَمِعُ وَیَدْنُو حَتَّی یَضَعَ فَاہُ عَلَی فِیہِ ، فَلاَ یَقْرَأُ آیَۃً إِلاَّ کَانَتْ فِی جَوْفِ الْمَلَکِ))۔
[صحیح۔ أخرجہ البزاء ۶۰۳]
(١٦٢) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ ہم کو نماز کا حکم دیا گیا اور فرمایا : جب بندہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے پاس فرشتہ آتا ہے جو اس کے پیچھے کھڑا ہوجاتا ہے وہ قرآن سنتا ہے اور قریب ہوجاتا ہے، وہ سنتا رہتا ہے اور قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک اپنا منہ اس کے منہ پر رکھ لیتا ہے، پھر وہ جو بھی آیت پڑھتا ہے وہ فرشتے کے پیٹ میں چلی جاتی ہے۔