(۱۶۱۱۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْقَاضِی أَبُو طَاہِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا الْقَوَارِیرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : أَنَّ رَجُلاً طَعَنَ رَجُلاً بِقَرْنٍ فِی رُکْبَتِہِ فَجَائَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَقِدْنِی۔ قَالَ: حَتَّی تَبْرَأَ۔ ثُمَّ جَائَ إِلَیْہِ فَقَالَ: أَقِدْنِی۔ فَأَقَادَہُ ثُمَّ جَائَ إِلَیْہِ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ عَرِجْتُ۔ قَالَ: قَدْ نَہَیْتُکَ فَعَصَیْتَنِی فَأَبْعَدَکَ اللَّہُ وَبَطَلَ عَرَجُکَ ۔ ثُمَّ نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یُقْتَصَّ مِنْ جُرْحٍ حَتَّی یَبْرَأَ صَاحِبُہُ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [ضعیف]
(١٦١١٥) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنیدادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کے گھٹنے کو سینگ مار کر زخمی کردیا تو وہ قصاص لینے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگیا۔ آپ نے فرمایا : پہلے ٹھیک ہو جاؤ۔ وہ پھر مطالبہ کرنے آگیا تو آپ نے قصاص دلوا دیا۔ پھر کچھ عرصے بعد آیا تو کہنے لگا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں لنگڑا ہوچکا ہوں تو آپ نے فرمایا : میں نے تجھے منع نہیں کیا تھا، تو نے میری نافرمانی کی، اللہ تجھے دور کرے۔ پھر آپ نے منع کردیا کہ زخم کے ٹھیک ہونے تک قصاص نہ لیا جائے۔