(۱۶۱۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ فِی الدِّیَاتِ فِی کِتَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ : وَفِی النَّفْسِ مِائَۃٌ مِنَ الإِبِلِ ۔ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ : أَفِی شَکٍّ أَنْتُمْ مِنْ أَنَّہُ کِتَابُ النَّبِیِّ -ﷺ-؟ قَالَ : لاَ۔
وَقَدْ رُوِیَ ہَذَا مَوْصُولاً۔ [صحیح]
(١٦١٤٦) عبداللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے انھیں خبر دی کہ جو خط نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو بن حزم کے لیے لکھا تھا اس میں یہ بھی تھا کہ قتل کے بدلے دیت ١٠٠ اونٹ ہے۔
ابن جریج نے کہا : میں نے عبداللہ بن ابی بکر سے پوچھا : کیا تمہیں شک ہے کہ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خط ہے ؟ کہنے لگے : نہیں۔