(۱۶۱۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الرَّفَّاء ُ الْبَغْدَادِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ وَعِیسَی بْنُ مِینَا قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ أَنَّ أَبَاہُ قَالَ کَانَ مَنْ أَدْرَکْتُ مِنْ فُقَہَائِنَا الَّذِینَ یُنْتَہَی إِلَی قَوْلِہِمْ مِنْہُمْ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ وَعُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ وَالْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَخَارِجَۃُ بْنُ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ وَسُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ فِی مَشْیَخَۃٍ جِلَّۃٍ سِوَاہُمْ مِنْ نُظَرَائِہِمْ وَرُبَّمَا اخْتَلَفُوا فِی الشَّیْئِ فَأَخَذْنَا بِقَوْلِ أَکْثَرِہِمْ وَأَفْضَلِہِمْ رَأْیًا۔ قَالَ وَکَانُوا یَقُولُونَ : الْعَقْلُ فِی الْخَطَإِ خَمْسَۃُ أَخْمَاسٍ فَخَمْسٌ جِذَاعٌ وَخَمْسٌ حِقَاقٌ وَخَمْسٌ بَنَاتُ لَبُونٍ وَخَمْسٌ بَنَاتُ مَخَاضٍ وَخَمْسٌ بَنُو لَبُونٍ ذُکُورٌ وَالسِّنُّ فِی کُلِّ جُرْحٍ قَلَّ أَوْ کَثُرَ خَمْسَۃُ أَخْمَاسٍ عَلَی ہَذِہِ الصِّفَۃِ۔ [ضعیف]
(١٦١٥١) عبدالرحمن بن ابی زناد اپنے والد کا قول نقل کرتے ہیں کہ ہمارے وہ فقہاء جن سے میں ملا ہوں اور جن کی بات حرفِ آخر تصور کی جاتی تھی، ان میں سے سعید بن مسیب، عروۃ بن زبیر، قاسم بن محمد، ابوبکر بن عبدالرحمن، خارجہ بن زید بن ثابت، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، سلیمان بن یسار اور جیسے دوسرے مشائخ، جب یہ کسی چیز میں اختلاف کرتے تو ہم ان میں سے جمہور کی بات کو لے لیتے۔ یہ سب کہتے ہیں کہ قتل خطا میں دیت میں پانچ اقسام ہیں۔ جذعہ، حقہ، بناتِ لبون، بناتِ مخاض، بنو لبون مذکر اور زخم میں ان عمروں میں اور صفات میں ضرورت کے مطابق کمی زیادتی ہوتی رہے گی۔