(۱۶۱۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ قَالَ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ یَقُولُ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ یَقُولُ أَبُو إِسْحَاقَ قَدْ رَأَی عَلْقَمَۃَ وَلَمْ یَسْمَعْ مِنْہُ۔ وَالآخَرُ حَدِیثُ سَہْلِ بْنِ أَبِی حَثْمَۃَ فِی الَّذِی وَدَاہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ فِیہِ بِمَائَۃٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَۃِ وبَنُو الْمَخَاضِ لاَ مَدْخَلَ لَہَا فِی أَصْلِ الصَّدَقَاتِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ وَحَدِیثُ الْقَسَامَۃِ وَإِنْ کَانَ فِی قَتْلِ الْعَمْدِ وَنَحْنُ نَتَکَلَّمُ فِی قَتْلِ الْخَطَإِ فَحِینَ لَمْ یَثْبُتْ ذَلِکَ الْقَتْلُ عَلَی أَحَدٍ مِنْہُمْ بِعَیْنِہِ وَدَاہُ النَّبِیُّ -ﷺ- بِدِیَۃِ الْخَطَإِ مُتَبَرِّعًا بِذَلِکَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَیْہِ أَنَّہُ قَالَ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَۃِ وَلاَ مَدْخَلَ لِلْخَلِفَاتِ الَّتِی تَجِبُ فِی دِیَۃِ الْعَمْدِ فِی أَصْلِ الصَّدَقَاتِ۔
(١٦١٦٤) یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ ابو اسحاق نے علقمہ کو دیکھا ہے لیکن سنا کچھ نہیں اور دوسری جو سہل بن ابی حثمہ کی حدیث ہے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ کے اونٹوں سے دیت ادا کی اور بنو مخاض صدقہ میں شامل ہی نہیں واللہ اعلم۔ حدیثِ قسامہ قتل عمد میں ہے اور ہم قتل خطاء کی بات کر رہے ہیں۔ جب ان میں سے کسی پر قتل ثابت ہی نہیں ہوا تھا، آپ نے اپنی طرف سے دیت ادا کردی تھی واللہ اعلم۔ وہ جو اس بات پر دال ہیں وہ صدقہ کے اونٹوں سے تھیں تو جو خلفات میں وہ بھی اصل صدقہ میں داخل نہیں ہیں۔