(۱۶۲۳۵) أَنْبَأَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِجَازَۃً أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ رَجُلاً أَصَابَ عَیْنَ رَجُلٍ فَذَہَبَ بِبَعْضِ بَصَرِہِ وَبَقِیَ بَعْضٌ فَرَفَعَ ذَلِکَ إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ فَأَمَرَ بِعَیْنِہِ الصَّحِیحَۃِ فَعُصِبَتْ وَأَمَرَ رَجُلاً بِبَیْضَۃٍ فَانْطَلَقَ بِہَا وَہُوَ یَنْظُرُ حَتَّی انْتَہَی بَصَرُہُ ثُمَّ خَطَّ عِنْدَ ذَلِکَ عَلَمًا ثُمَّ نَظَرَ فِی ذَلِکَ فَوَجَدُوہُ سَوَائً قَالَ فَأَعْطَاہُ بِقَدْرِ مَا نَقَصَ مِنْ بَصَرَہِ مِنْ مَا لِلآخَرِ۔ [ضعیف]
(١٣١٣٥) ابن مسیب فرماتے ہیں کہ ایک شخص کی آنکھ میں مار دیا گیا جس سے اس کی نظر کمزور ہوگئی۔ حضرت علی (رض) کے پاس فیصلہ آیا، آپ نے اس کی صحیح آنکھ پر پٹی باندھی ایک شخص کو انڈہ لے کر چلنے کا حکم دیا جہاں اس کی نظر ختم ہوگئی، پھر دوسری آنکھ کو اسی طرح چیک کیا تقریباً دونوں برابر تھیں۔ جتنی نظر کم محسوس ہوئی اتنی دیت اسے دے دی گئی۔