(۱۶۳۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : لَمَّا قَالَ ابْنُ الْمُسَیَّبِ ہِیَ السُّنَّۃُ أَشْبَہُ أَنْ یَکُونَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَوْ عَنْ عَامَّۃٍ مِنْ أَصْحَابِہِ وَلَمْ یُشْبِہْ زَیْدًا أَنْ یَقُولَ ہَذَا مِنْ جِہَۃِ الرَّأْیِ لأَنَّہُ لاَ یَحْمِلُہُ الرَّأْیُ وَلاَ یَکُونُ فِیمَا قَالَ سَعِیدٌ السُّنَّۃُ إِذَا کَانَ یُخَالِفُ الْقِیَاسَ وَالْعَقْلَ إِلاَّ عِلْمَ اتِّبَاعٍ فِیمَا نُرَی وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَقَدْ کُنَّا نَقُولُ بِہِ عَلَی ہَذَا الْمَعْنَی ثُمَّ وَقَفْتُ عَنْہُ وَأَسْأَلُ اللَّہَ الْخِیَرَۃَ مِنْ قِبَلِ أَنَّا قَدْ نَجِدُ مِنْہُمْ مَنْ یَقُولُ السُّنَّۃُ ثُمَّ لاَ نَجِدُ لِقَوْلِہِ السُّنَّۃُ نَفَاذًا بِأَنَّہَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَالْقِیَاسُ أَوْلَی بِنَا فِیہَا قَالَ وَلاَ یَثْبُتُ عَنْ زَیْدٍ إِلاَّ کَثُبُوتِہِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَرُوِیَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِإِسْنَادٍ لاَ یَثْبُتُ مِثْلُہُ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِإِسْنَادٍ ضَعِیفٍ مِثْلُ قَوْلِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَہُوَ قَوْلُ الْفُقَہَائِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ۔ [صحیح۔ للشافعی]
(١٦٣١٢) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جب ابن مسیب نے یہ کہا کہ یہ سنت ہے تو مجھے یہ شبہ ہے کہ یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے یا عام صحابہ سے۔ زید کے بارے میں شبہ نہیں کہ انھوں نے رائے سے کہا ہو کیونکہ رائے تو اس پر محمول ہوتی ہے اور نہ اس میں جس کے بارے میں سعید نے کہا کہ یہ سنت ہے، جب وہ قیاس کے خلاف ہو اور دیت یہ اتباع کے علم سے ہوتی ہے ہماری رائے کے مطابق واللہ اعلم۔ ہم بھی اسی معنیٰ میں یہ کہا کرتے تھے لیکن پھر رک گئے اور میں اللہ سے بھلائی کا ہی سوال کرتا ہوں کہ ہم کوئی شخص ایسا پائیں کہ جو اسے سنت کہے۔ پھر ہم ایسا نہ پائیں جو اسے سنت نبوی سمجھ کر نافذ نہ کرے۔ ہمارے نزدیک اس میں قیاس اولیٰ ہے اور فرمایا : زید سے بھی اسی طرح ثابت ہے جیسے حضرت علی (رض) سے۔