(۱۶۳۶۶) أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ : أَنَّ غُلاَمًا لأُنَاسٍ فُقَرَائَ قَطَعَ أُذُنَ غُلاَمٍ لأُنَاسٍ أَغْنِیَائَ فَأَتَی أَہْلُہُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا أُنَاسٌ فُقَرَاء ُ فَلَمْ یَجْعَلْ عَلَیْہِ شَیْئًا۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : إِنْ کَانَ الْمُرَادُ بِالْغُلاَمِ الْمَذْکُورِ فِیہِ الْمَمْلُوکَ فَإِجْمَاعُ أَہْلِ الْعِلْمِ عَلَی أَنَّ جِنَایَۃَ الْعَبْدِ فِی رَقَبَتِہِ یَدُلُّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ عَلَی أَنَّ الْجِنَایَۃَ کَانَتْ خَطَأً وَأَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- إِنَّمَا لَمْ یَجْعَلْ عَلَیْہِ شَیْئًا لأَنَّہُ الْتَزَمَ أَرْشَ جِنَایَتِہِ فَأَعْطَاہُ مِنْ عِنْدِہِ مُتَبَرِّعًا بِذَلِکَ
وَقَدْ حَمَلَہُ أَبُو سُلَیْمَانَ الْخَطَّابِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ عَلَی أَنَّ الْجَانِیَ کَانَ حُرًّا وَکَانَتِ الْجِنَایَۃُ خَطَأً وَکَانَتْ عَاقِلَتُہُ فُقَرَائَ فَلَمْ یَجْعَلْ عَلَیْہِمْ شَیْئًا إِمَّا لِفَقْرِہِمْ وَإِمَّا لأَنَّہُمْ لاَ یَعْقِلُونَ الْجِنَایَۃَ الْوَاقِعَۃَ عَلَی الْعَبْدِ إِنْ کَانَ الْمَجْنِیُّ عَلَیْہِ مَمْلُوکًا وَاللَّہُ أَعْلَمُ
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَدْ یَکُونُ الْجَانِی غُلاَمًا حُرًّا غَیْرَ بَالِغٍ وَکَانَتْ جِنَایَتُہُ عَمْدًا فَلَمْ یَجْعَلْ أَرْشَہَا عَلَی عَاقِلَتِہِ وَکَانَ فَقِیرًا فَلَمْ یَجْعَلْہُ فِی الْحَالِ عَلَیْہِ أَوْ رَآہُ عَلَی عَاقِلَتِہِ فَوَجَدَہُمْ فُقَرَائَ فَلَمْ یَجْعَلْہُ عَلَیْہِ لِکَوْنِ جِنَایَتِہِ فِی حُکْمِ الْخَطَإِ وَلاَ عَلَیْہِمْ لِکَوْنِہِمْ فُقَرَائَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
(١٦٣٦٦) عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ غریبوں کے غلام نے امیروں کے غلام کا کان کاٹ دیا تو اس کے اہل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہنے لگے : ہم غریب لوگ ہیں تو آپ نے ان پر کچھ نہ رکھا۔
شیخ فرماتے ہیں : اگر مذکورہ غلام سے مراد مملوک ہے تو اہل علم کا اجماع ہے کہ غلام کا جرم اسی کی گردن میں ہے اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کا یہ جرم غلطی سے تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر کوئی چیز نہیں رکھی اور اپنی طرف سے تبرعاً ادا کردیا۔
ابو سلیمان خطابی فرماتے ہیں کہ مجرم آزاد تھا اور اس سے یہ غلطی ہوئی تھی تو اس کے عاقلہ رشتہ دار فقیر ۔ تو آپ نے اس لیے ان پر کچھ نہ رکھا یا ۔ پھر اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ غلام کے سرزد شدہ جرم پر دیت دینا نہیں چاہتے تھے، جب کہ مجرم مملوک تھا۔ واللہ اعلم
شیخ فرماتے ہیں کہ مجرم آزاد نابالغ بچہ تھا اور یہ اس کا جرم عمداً تھا تو عاقلہ پر اس کی دیت پڑتی ہی نہیں ہے اور وہ خود فقیر تھا اس لیے اس سے نہیں لی۔