(۱۶۳۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنِی الشَّعْبِیُّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ امْرَأَتَیْنِ مِنْ ہُذَیْلٍ قَتَلَتْ إِحْدَاہُمَا الأُخْرَی وَلِکُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا زَوْجٌ وَوَلَدٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- دِیَۃَ الْمَقْتُولَۃِ عَلَی عَاقِلَۃِ الْمَرْأَۃِ الْقَاتِلَۃِ وَبَرَّأَ زَوْجَہَا وَوَلَدَہَا فَقَالَتْ عَاقِلَۃُ الْمَقْتُولَۃِ مِیرَاثُہَا لَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مِیرَاثُہَا لِزَوْجِہَا وَوَلَدِہَا ۔ وَکَانَتْ حُبْلَی فَأَلْقَتْ جَنِینَہَا فَخَافَتْ عَاقِلَۃُ الْقَاتِلَۃِ أَنْ یُضَمِّنَہُمْ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ لاَ شَرِبَ وَلاَ أَکَلَ وَلاَ صَاحَ فَاسْتَہَلَّ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہَذَا سَجْعُ الْجَاہِلِیَّۃِ ۔ فَقَضَی فِی الْجَنِینِ غُرَّۃً عَبْدًا أَوْ أَمَۃً۔ [ضعیف]
(١٦٣٧٣) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ہذیل کی دو عورتیں آپس میں لڑ پڑیں۔ ایک نے دوسری کو قتل کردیا۔ ان میں سے ہر ایک کا خاوند اور بیٹا بھی تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے عصبہ ابوی پر مقرر کی۔ خاوند اور بیٹے کو بری کردیا۔ مقتولہ کے عاقلہ عصبہ کہنے لگے : میراث ہمیں ملے گی۔ تو آپ نے فرمایا : میراث خاوند اور بیٹے کی ہے۔ وہ عورت مقتولہ حاملہ تھی، اس کا بچہ بھی ساقط ہوگیا، قاتلہ کے عصبہ ڈر گئے کہ اس کی بھی دیت دینی ہوگی وہ کہنے لگے : نہ اس نے کھایا، نہ پیا، نہ بولا، نہ چیخا تو آپ نے فرمایا : یہ جاہلیت کی باتیں ہیں تو آپ نے اس بچے کے بدلے بھی ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ فرمایا۔