(۱۶۳۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَسُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ أَنَّہُمَا قَالاَ : لاَ تَحْمِلُ الْعَاقِلَۃُ إِلاَّ ثُلُثَ الدِّیَۃِ فَصَاعِدًا کَذَا قَالاَ۔ وَذَہَبَ الشَّافِعِیُّ إِلَی أَنَّہَا تَحْمِلُ کُلَّ مَا کَثُرَ وَقَلَّ لأَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَمَّا حَمَّلَہَا الأَکْثَرَ دَلَّ عَلَی تَحْمِیلِہَا الأَیْسَرَ۔ قَالَ : وَقَضَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْجَنِینِ بِغُرَّۃٍ وَقَضَی بِہِ عَلَی الْعَاقِلَۃِ وَذَلِکَ نِصْفُ عُشْرِ الدِّیَۃِ۔ [ضعیف]
(١٦٣٨٥) ابن مسیب اور سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ عاقلہ ثلث دیت تک کے ضامن ہیں۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ پوری دیت کم ہو یا زیادہ اس کے وہ ضامن ہیں؛ کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کم یا زیادہ کی اس میں کوئی تفریق نہیں فرمائی اور اس عورت کے ساقط شدہ بچے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیت کے نصف عشر کا فیصلہ بھی عاقلہ پر سنایا۔