(۱۶۳۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ الصَّیْرَفِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ قَالَ بَعْضُہُمْ فَإِنَّ یَحْیَی بْنَ سَعِیدٍ قَالَ : مِنَ الأَمْرِ الْقَدِیمِ أَنْ تَعْقِلَ الْعَاقِلَۃُ الثُّلُثَ فَصَاعِدًا قُلْنَا الْقَدِیمُ قَدْ یَکُونُ مِمَّنْ یُقْتَدَی بِہِ وَیَلْزَمُ قَوْلُہُ وَیَکُونُ مِنَ الْوُلاَۃِ الَّذِینَ لاَ یُقْتَدَی بِہِمْ وَلاَ یَلْزَمُ قَوْلُہُمْ أَفَنَتْرُکُ الْیَقِینَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَضَی بِنِصْفِ عُشْرِ الدِّیَۃِ عَلَی الْعَاقِلَۃِ بِظَنٍّ۔ [ضعیف]
(١٦٣٨٨) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض نے یہ کہا کہ یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں : امر قدیم یہ ہے کہ عاقلہ ثلث دیت کے ضامن ہیں۔ ہم نے کہا : پھر تو قدیم چیز کی ہی اقتدا کی جائے اور انہی کی بات پکڑی جائے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غالباً عاقلہ پر نصف عشر دیت کا فیصلہ فرمایا تھا۔