(۱۶۳۹۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِی سَلاَّمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَبِی سَلاَّمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : أَغَرْنَا عَلَی حَیٍّ مِنْ جُہَیْنَۃَ فَطَلَبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ رَجُلاً مِنْہُمْ فَضَرَبَہُ فَأَخْطَأَہُ وَأَصَابَ نَفْسَہُ بِالسَّیْفِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَخُوکُمْ یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِینَ ۔ فَابْتَدَرَہُ النَّاسُ فَوَجَدُوہُ قَدْ مَاتَ فَلَفَّہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِثِیَابِہِ وَدِمَائِہِ وَصَلَّی عَلَیْہِ وَدَفَنَہُ فَقَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَشَہِیدٌ ہُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ وَأَنَا لَہُ شَہِیدٌ۔ [ضعیف]
(١٦٣٩٣) ابو سلام صحابہ میں سے کسی سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے جہینہ کے ایک قبیلہ پر حملہ کیا تو ایک مسلمان ایک کافر کے پیچھے دوڑا اور اسے تلوار ماری۔ اسے تو نہ لگی لیکن خود کو لگ گئی تو آپ نے فرمایا : تمہارا بھائی کہاں ہے اے مسلمانو ! لوگوں نے تلاش کیا تو وہ شہید ہوچکا تھا۔ آپ نے اس کے کپڑوں اور خون سمیت اس کا جنازہ پڑھایا اور دفن فرمایا۔ لوگوں نے پوچھا : کیا یہ شہید ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں اور میں اس پر گواہ ہوں۔