(۱۶۴۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِیُّ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ یَعْنِی ابْنَ کَثِیرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتِ: اسْتُحِیضَتْ أُخْتُ زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ سَبْعَ سِنِینَ فَکَانَتْ تَمْلأُ مِرْکَنًا لَہَا مَائً ، ثُمَّ تَدْخُلُہُ حَتَّی تَعْلُوَ الْمَائَ حُمْرَۃُ الدَّمِ، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّہِ-ﷺ- فَقَالَ لَہَا: ((إِنَّہُ لَیْسَ بِحَیْضَۃٍ وَلَکِنَّہُ عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِی وَصَلِّی))۔
لَیْسَ فِیہِ الأَمْرُ بِالْغُسْلِ لِکُلِّ صَلاَۃٍ وَہَذَا أَوْلَی لِمُوَافَقَتِہِ سَائِرَ الرِّوَایَاتِ عَنِ الزُّہْرِیِّ ، وَرِوَایَۃُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّہْرِیِّ غَلَطٌ لِمُخَالَفَتِہَا سَائِرَ الرِّوَایَاتِ عَنِ الزُّہْرِیِّ ، وَمُخَالَفَتِہَا الرِّوَایَۃَ الصَّحِیحَۃَ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ۔ [صحیح لغیرہٖ]
(١٦٤٢) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ سیدہ زینب بنت جحش (رض) کی بہن سات سال مستحاضہ رہیں، وہ اپنا ٹپ پانی سے بھر لیتی تھیں پھر (نہانے کے لیے) داخل ہوتیں تو خون کی سرخی پانی کے اوپر آجاتی، انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ حیض نہیں بلکہ یہ ایک رگ ہے، غسل کر اور نماز پڑھ۔ (ب) اس روایت میں ہر نماز کے لیے غسل کا حکم نہیں، یہ امام زہری کی تمام روایات کے موافق ہے۔