(۱۶۴۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : زَیْدُ بْنُ أَبِی ہَاشِمٍ الْعَلَوِیُّ بِالْکُوفَۃِ وَأَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّجَّارِ الْمُقْرِئُ بِہَا أَیْضًا قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ عَنْ أَسْبَاطٍ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : کَانَتِ امْرَأَتَانِ ضَرَّتَانِ فَکَانَ بَیْنَہُمَا سَخَبٌ فَرَمَتْ إِحْدَاہُمَا الأُخْرَی بِحَجَرٍ فَأَسْقَطَتْ غُلاَمًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُہُ مَیِّتًا وَمَاتَتِ الْمَرْأَۃُ فَقَضَی عَلَی الْعَاقِلَۃِ الدِّیَۃَ فَقَالَ عَمُّہَا : إِنَّہَا قَدْ أَسْقَطَتْ یَا رَسُولَ اللَّہِ غُلاَمًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُہُ۔ فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَۃِ : إِنَّہُ کَاذِبٌ إِنَّہُ وَاللَّہِ مَا اسْتَہَلَّ وَلاَ عَقَلَ وَلاَ شَرِبَ وَلاَ أَکَلَ فَمِثْلُہُ یُطَلُّ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَسَجْعُ الْجَاہِلِیَّۃِ وَکِہَانَتُہَا أَرَی فِی الصَّبِیِّ غُرَّۃً ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : کَانَ اسْمُ إِحْدَاہُمَا مُلَیْکَۃَ وَالأُخْرَی أُمَّ غُطَیْفٍ۔ [ضعیف]
(١٦٤١٥) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ دو عورتیں جو ایک نکاح میں تھیں، آپس میں بغض تھا، لڑ پڑیں ایک نے دوسری کو پتھر مارا تو دوسری مرگئی اور اس کا بچہ پیٹ میں تھا جس کے بال اگ چکے تھے، ساقط ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ قاتلہ کے عاقلہ پر دیت ہے تو مقتولہ کا چچا کہنے لگا : یا رسول اللہ ! بچہ بھی ساقط ہوا ہے، جس کے بال اگ چکے تھے تو قاتلہ کا باپ کہنے لگا : جھوٹ بولتے ہو، جو نہ چیخا نہ چلایا نہ کھایا نہ پیا اس کی دیت کیسی ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ جاہلیت کی سجع کلامی کرتا ہے اور بچے کے بدلے غلام کا حکم دیا۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ان میں سے ایک کا نام ملیکہ اور دوسری کا نام غطیف تھا۔