(۱۶۴۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ جَرِیرٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سَرِیَّۃً إِلَی خَثْعَمٍ فَاعْتَصَمَ نَاسٌ بِالسُّجُودِ فَأَسْرَعَ فِیہِمُ الْقَتْلُ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَأَمَرَہُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ وَقَالَ : أَنَا بَرِیئٌ مِنْ کُلِّ مُسْلِمٍ مُقِیمٍ بَیْنَ أَظْہُرِ الْمُشْرِکِینَ ۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَلِمَ؟ قَالَ : لاَ تَرَایَا نَارَاہُمَا ۔ [ضعیف۔ منکر]
(١٦٤٧١) جریر کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر خثعم کی طرف بھیجا تو لوگوں نے اپنے آپ کو سجدوں میں پڑ کر بچایا لیکن پھر بھی جلد بازی میں کچھ قتل کردیے۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کا پتہ چلا تو آپ نے نصف دیت کا حکم دیا اور فرمایا کہ میں ہر مسلمان سے بری ہوں جو ان مشرکین کے درمیان میں ہے۔ انھوں نے کہا : کیوں یا رسول اللہ ؟ فرمایا : تم دونوں نے ان کی آگ نہیں دیکھی۔