(۱۶۴۷۹) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِیدٍ قَالَ وَأَمَّا أَبُو حُذَیْفَۃَ فَاخْتَلَفَتْ عَلَیْہِ أَسْیَافُ الْمُسْلِمِینَ فَقَتَلُوہُ وَلاَ یَعْرِفُونَہُ فَقَالَ حُذَیْفَۃُ أَبِی أَبِی فَقَالُوا وَاللَّہِ إِنْ عَرَفْنَاہُ وَصَدَّقُوا فَقَالَ حُذَیْفَۃُ : یَغْفِرُ اللَّہُ لَکُمْ وَہُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یَدِیَہُ فَتَصَدَّقَ بِہِ حُذَیْفَۃُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ فَزَادَہُ ذَلِکَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ [صحیح]
(١٦٤٧٩) محمود بن لبید فرماتی ہیں کہ ابو حذیفہ پر تلواریں مختلف ہوگئیں اور مسلمانوں کے ہاتھوں ہی شہید ہوگئے حذیفہ چلاتے بھی رہے میرے والد میرے والد ! لیکن وہ نہ سن سکے تو وہ لوگ کہنے لگے : اگر ہم پہچان لیتے تو چھوڑ دیتے تو حضرت حذیفہ نے فرمایا : اللہ تمہیں معاف فرمائے۔ وہ سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی طرف سے دیت دینا چاہی تو حضرت حذیفہ نے اسے مسلمانوں پر ہی صدقہ کردی۔