(۱۶۴۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو الْعَبَّاسِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّاذْیَاخِیُّ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- طُبَّ حَتَّی أَنَّہُ لَیُخَیَّلُ إِلَیْہِ أَنَّہُ قَدْ صَنَعَ الشَّیْئَ وَمَا صَنَعَہُ وَإِنَّہُ دَعَا رَبَّہُ ثُمَّ قَالَ : أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّہَ قَدْ أَفْتَانِی فِیمَا اسْتَفْتَیْتُہُ فِیہِ ۔ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : وَمَا ذَاکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ : جَائَ نِی رَجُلاَنِ فَجَلَسَ أَحَدُہُمَا عِنْدَ رَأْسِی وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلَیَّ فَقَالَ أَحَدُہُمَا لِصَاحِبِہِ مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ الآخَرُ مَطْبُوبٌ قَالَ مَنْ طَبَّہُ قَالَ لَبِیدُ بْنُ الأَعْصَمِ قَالَ فِیمَا ذَا قَالَ فِی مُشْطٍ وَمُشَاطَۃٍ وَجُفِّ طَلْعَۃٍ ذَکَرٍ قَالَ فَأَیْنَ ہُوَ قَالَ ہُوَ فِی ذَرْوَانَ ۔ وَذَرْوَانُ بِئْرٌ فِی بَنِی زُرَیْقٍ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَأَتَاہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ رَجَعَ إِلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَ: وَاللَّہِ لَکَأَنَّ مَائَ ہَا نُقَاعَۃُ الْحِنَّائِ وَلَکَأَنَّ نَخْلَہَا رُء ُوسُ الشَّیَاطِینِ۔ قَالَتْ فَقُلْتُ لَہُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلاَّ أَخْرَجْتَہُ؟ قَالَ: أَمَّا أَنَا فَقَدْ شَفَانِی اللَّہُ کَرِہْتُ أَنْ أُثِیرَ عَلَی النَّاسِ مِنْہُ شَرًّا ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَنَسِ بْنِ عِیَاضٍ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ۔ [صحیح]
(١٦٤٩٤) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کردیا گیا، جس کا اثر یہ ہوا کہ آپ کو خیال ہوتا کہ میں نے یہ کام کیا ہے اور وہ کیا نہ ہوتا۔ آپ نے اپنے رب سے دعا کی، پھر فرمایا : کیا تجھے پتا ہے کہ جو میں نے اللہ سے پوچھا تھا، اللہ نے مجھے بتادیا۔ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : وہ کیا ہے یا رسول اللہ ! فرمایا : میرے پاس دو آدمی آئے، ایک میرے سر اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس بیٹھ گیا۔ ایک کہنے لگا : اسے کیا تکلیف ہے ؟ دوسرے نے کہا : جادو ہوا ہے۔ پوچھا : کس نے جادو کیا ہے ؟ کہا : لبید بن اعصم یہودی نے۔ پوچھا وہ کس میں ہے ؟ کہا : ایک کنگھی ہے اور اس میں بال ہے اور ایک گڈا ہے جس میں سوئیاں چبھی ہوئی ہیں۔ پوچھا : وہ کہاں ہے ؟ کہا : بنو زریق کے ذروان نامی کنویں میں۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لائے گئے، پھر آپ حضرت عائشہ کے پاس آئے اور فرمایا : واللہ اس کا پانی ایسے تھا جیسے مہندی کا رنگ ہو اور اس کے کھجور کے درخت ایسے تھے جیسے شیطان کے سر ہوں میں نے کہا : آپ نے اسے نکالا کیوں نہیں ؟ تو جواب دیا : اللہ نے مجھے اس سے شفاء دے دی تو میں نے ناپسند جانا کہ لوگوں کو اس کا کچھ شر پہنچے۔