(۱۶۵۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ سَعِیدٍ یَقُولُ أَخْبَرَنِی ابْنُ عَمْرَۃَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثَۃَ وَہُوَ أَبُو الرِّجَالِ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَصَابَہَا مَرَضٌ وَإِنَّ بَعْضَ بَنِی أَخِیہَا ذَکَرُوا شَکْوَاہَا لِرَجُلٍ مِنَ الزُّطِّ یَتَطَبَّبُ وَإِنَّہُ قَالَ لَہُمْ إِنَّکُمْ لَتَذْکُرُونَ امْرَأَۃً مَسْحُورَۃً سَحَرَتْہَا جَارِیَۃٌ لَہَا فِی حَجْرِ الْجَارِیَۃِ الآنَ صَبِیٌّ قَدْ بَالَ فِی حَجْرِہَا فَذَکَرُوا ذَلِکَ لِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَتِ : ادْعُوا لِی فُلاَنَۃَ لِجَارِیَۃٍ لَہَا قَالُوا فِی حَجْرِہَا فُلاَنٌ صَبِیٌّ لَہُمْ قَدْ بَالَ فِی حَجْرِہَا فَقَالَتِ : ائْتُونِی بِہَا فَأُتِیَتْ بِہَا فَقَالَتْ : سَحَرْتِنِی؟ قَالَتْ : نَعَمْ۔ قَالَتْ : لِمَہْ؟ قَالَتْ : أَرَدْتُ أَنْ أُعْتَقَ۔ وَکَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَعْتَقَتْہَا عَنْ دُبُرٍ مِنْہَا فَقَالَتْ : إِنَّ لِلَّہِ عَلَیَّ أَنْ لاَ تُعْتَقِی أَبَدًا انْظُرُوا أَسْوَأَ الْعَرَبِ مَلَکَۃً فَبِیعُوہَا مِنْہُمْ۔ وَاشْتَرَتْ بِثَمَنِہَا جَارِیَۃً فَأَعْتَقَتْہَا۔ [صحیح]
(١٦٥٠٦) عائشہ (رض) سے منقول ہے کہ ایک دفعہ یہ بیمار ہوگئیں تو آپ کے بھتیجوں نے ایک شخص کو ان کے بار میں بتایا جو منہ میں بھنبھنا کر علاج کرتا ہے اور اس نے ان کو کہا تمہیں یاد ہوگا کہ ایک عورت پر اس کی لونڈی نے جادو کردیا تھا اس لونڈی کی گود میں اب ایک بچہ بھی ہے جس نے اس کی گود میں پیشاب کردیا۔ انھوں نے یہ بات آ کر حضرت عائشہ کو بتائی تو آپ نے فرمایا : فلاں عورت کو بلاؤا سے لایا گیا تو آپ نے پوچھا : تو جادو کرتی ہے ؟ کہا : ہاں پوچھا : کیوں ؟ کہنے لگی : اس لیے کہ یہ مجھے آزاد کردیں۔ حضرت عائشہ نے فرمایا : اللہ کرے تو کبھی آزاد نہ ہو دیکھو عرب کا کوئی برا آدمی اسے اس کے ہاتھوں بیچ دو اور پھر اس کی قیمت سے ایک دوسری لونڈی خریدی اور اسے آزاد کردیا۔