(۱۶۵۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ نُبَیْطٍ الأَشْجَعِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَیْدٍ وَکَانْ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّۃِ قَالَ کَانَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقِیلَ لَہُ یَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّہِ تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ نَعَمْ فَعَلِمُوا أَنَّہُ کَمَا قَالَ ثُمَّ قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : دُونَکُمْ صَاحِبَکُمْ لِبَنِی عَمِّ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَعْنِی فِی غُسْلِہِ یَلُونَ أَمْرَہُ ثُمَّ خَرَجَ فَاجْتَمَعَ الْمُہَاجِرُونَ یَتَشَاوَرُونَ فَبَیْنَا ہُمْ کَذَلِکَ یَتَشَاوَرُونَ إِذْ قَالُوا انْطَلِقُوا بِنَا إِلَی إِخْوَانِنَا مِنَ الأَنْصَارِ فَإِنَّ لَہُمْ فِی ہَذَا الْحَقِّ نَصِیبًا فَانْطَلَقُوا فَأَتَوُا الأَنْصَارَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ مِنَّا رَجُلٌ وَمِنْکُمْ رَجُلٌ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : سَیْفَانِ فِی غِمْدٍ وَاحِدٍ إِذًا لاَ یَصْطَلِحَا فَأَخَذَ بِیَدِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَالَ مَنْ ہَذَا الَّذِی لَہُ ہَذِہِ الثَلاَثُ {إِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ} مَنْ ہُمَا {إِذْ یَقُولُ لِصَاحِبِہِ} مَنْ صَاحِبُہُ {لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللَّہَ مَعَنَا} مَعَ مَنْ ہُوَ فَبَسَطَ عُمَرُ یَدَ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَ بَایِعُوہُ فَبَایَعَ النَّاسُ أَحْسَنَ بَیْعَۃٍ وَأَجْمَلَہَا۔ [صحیح]
(١٦٥٤٩) سالم بن عبید جو اصحاب صفہ میں سے تھے فرماتے ہیں کہ ابوبکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے۔ کہا گیا : اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی ! کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے ہیں ؟ فرمایا : ہاں اور انھیں پتہ بھی چل گیا اور پھر فرمایا : اپنے صاحب کو اس کے چچا کے بیٹے کے لیے چھوڑ دو ، یعنی غسل دینے کے لیے۔ پھر آئے مہاجرین اکٹھے ہوگئے اور مشورہ کرنے لگے اور کہنے لگے : انصاری بھائیوں کے پاس چلو۔ ان سے بھی مشورہ کرتے ہیں، ان کا بھی حق ہے۔ انصار کے پاس آئے تو ایک شخص انصار میں سے کہنے لگا : ایک امیر تم میں سے اور ایک ہم میں سے ہوگا۔ عمر فرمانے لگے : دو تلواریں ایک میان میں، یہ صحیح نہیں۔ ابوبکر کا ہاتھ پکڑا اور پوچھا : یہ تین آیات کس کے بارے میں { اِذْ ھُمَا فِی الْغَارِ }[التوبۃ ٤٠] { اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ }[التوبۃ ٤٠] { لَاتَخْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا }[التوبۃ ٤٠] تو عمر نے حضرت ابوبکر کا ہاتھ کھولا، بیعت کی اور لوگوں کو بھی کہا تو لوگوں نے بہت اچھی بیعت کرلی۔