(۱۶۵۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَحَّامُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ ابْنِ خُثَیْمٍ یَعْنِی عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : مَکَثَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِمَکَّۃَ عَشْرَ سِنِینَ یَتَتَبَّعُ النَّاسَ فِی مَنَازِلِہِمْ بِعُکَاظٍ وَمِجَنَّۃَ وَفِی الْمَوْسِمِ بِمِنًی یَقُولُ : مَنْ یُئْوِینِی مَنْ یَنْصُرُنِی حَتَّی أُبَلِّغَ رِسَالَۃَ رَبِّی وَلَہُ الْجَنَّۃُ ۔ قَالَ فَقُلْنَا : حَتَّی مَتَی نَتْرُکُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یُطْرَدُ فِی جِبَالِ مَکَّۃَ وَیَخَافُ فَرَحَلَ إِلَیْہِ مِنَّا سَبْعُونَ رَجُلاً حَتَّی قَدِمْنَا عَلَیْہِ فِی الْمَوْسِمِ فَوَعَدْنَاہُ شِعْبَ الْعَقَبَۃِ فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَہُ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَیْنِ حَتَّی تَوَافَیْنَا فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ عَلَی مَا نُبَایِعُکَ؟ قَالَ : تُبَایِعُونِی عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی النَّشَاطِ وَالْکَسَلِ والنَّفَقَۃِ فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ وَعَلَی الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّہْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ وَأَنْ تَقُولُوا فِی اللَّہِ لاَ تَخَافُونَ لَوْمَۃَ لاَئِمٍ وَعَلَی أَنْ تَنْصُرُونِی إِذَا قَدِمْتُ عَلَیْکُمْ وَتَمْنَعُونِی مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْہُ أَنْفُسَکُمْ وَأَزْوَاجَکُمْ وَأَبْنَائَ کُمْ وَلَکُمُ الْجَنَّۃُ ۔ فَقُمْنَا إِلَیْہِ فَبَایَعْنَاہُ۔ [حسن]
(١٦٥٥٦) جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں ١٠ سال ٹھہرے اور آپ لوگوں سے ان کے گھروں میں یا عکاظ کے بازار اور جحینہ میں اور حج کے موسم میں ملتے اور فرماتے : میری مدد کون کرے گا تاکہ میں اللہ کا پیغام پہنچاؤں۔ اس کے لیے جنت ہے، ہم نے کہا : ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں اور آپ مکہ کے پہاڑوں میں گھومتے ہیں اور وہ ڈریں ؟ تو ہم ٧٠ آدمی موسم حج میں گئے اور شعب العقبہ پر ملنے کا وعدہ کیا۔ ہم وہاں جمع ہوگئے۔ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : کس پر ہم بیعت کریں ؟ فرمایا : مجھ سے بیعت کرو کہ ہر حال میں میرا ساتھ دو گے اور تنگی اور آسانی میں خرچ کرو گے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو گے۔ اللہ کی باتیں کرو گے اور کسی ملامت والے کی ملامت سے نہیں ڈرو گے۔ جب میں تمہارے پاس آؤں تو میری مدد کرو گے اور جن سے تم اپنا اپنے بیوی بچوں کا دفاع کرتے ہو میرا بھی دفاع کرو گے تو ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس پر بیعت کرلی۔