(۱۶۵۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : کُنَّا یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَۃٍ فَبَایَعْنَاہُ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّاب رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ آخِذٌ بِیَدِہِ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ وَہِیَ سَمُرَۃٌ بَحْرٌ فَبَایَعْنَاہُ عَلَی أَنْ لاَ نَفِرَّ وَلَمْ نُبَایِعْہُ عَلَی الْمَوْتِ یَعْنِی النَّبِیَّ -ﷺ-۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنِ اللَّیْثِ قَالَ الشَّیْخُ الْفَقِیہُ کَذَا قَالاَ۔ [صحیح]
(١٦٥٥٨) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن ہم ١٤٠٠ تھے۔ ہم نے آپ کی بیعت کی اور حضرت عمر (رض) نے آپ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا درخت کے نیچے۔ ہم نے آپ کی بیعت موت پر نہیں کی بلکہ اس پر کی کہ نہیں بھاگیں گے ۔