(۱۶۵۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی : رُؤْیَا الأَنْبِیَائِ وَحْیٌ وَقَوْلُہُ : وَفِی نَزْعِہِ ضَعْفٌ ۔ قِصَرُ مُدَّتِہِ وَعَجَلَۃُ مَوْتِہِ وَشُغُلُہُ بِالْحَرْبِ لأَہْلِ الرِّدَّۃِ عَنِ الاِفْتِتَاحِ وَالتَّزَیُّدِ الَّذِی بَلَغَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی طُولِ مُدَّتِہِ۔ [صحیح۔ للشافعی]
(١٦٥٩٥) امام شافعی فرماتے ہیں کہ انبیاء کا خواب بھی وحی ہوتا ہے اور حضرت ابوبکر کے ڈول نکالنے میں کمزوری کا مطلب یہ ہے کہ ان کی مدت خلافت کم ہوگی، جلدی وفات پاجائیں گے۔ مرتدین سے جنگ میں مشغول رہیں گے اور حضرت عمر کی مدت خلافت لمبی ہوگی۔