(۱۶۶۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ زُبَیْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیِّ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- بَعَثَ سَرِیَّۃً وَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ رَجُلاً وَأَمَرَہُمْ أَنْ یُطِیعُوہُ فَأَجَّجَ لَہُمْ نَارًا وَأَمَرَہُمْ أَنْ یَقْتَحِمُوا فَہَمَّ قَوْمٌ أَنْ یَفْعَلُوا وَقَالَ آخَرُونَ إِنَّمَا فَرَرْنَا مِنَ النَّارِ فَأَبَوْا ثُمَّ قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرُوا ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لَوْ دَخَلُوہَا لَمْ یَزَالُوا فِیہَا إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لاَ طَاعَۃَ فِی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ إِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوفِ ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلَمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٦٦٠٩) ابو عبدالرحمن سلمی حضرت علی (رض) سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ایک سریہ بھیجا اور اس پر ایک امیر مقرر فرمایا اور لوگوں کو اس کی اطاعت کا حکم دیا تو اس نے آگ جلائی اور لوگوں کو حکم دیا، اس میں کود جاؤ۔ لوگوں نے انکار کردیا کہ اسی آگ سے بچنے کے لیے ہم عمل کرتے ہیں۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس آئے تو آپ نے فرمایا : اگر اس میں کود جاتے تو قیامت تک اسی میں جلتے رہتے۔ اطاعت صرف معروف میں ہے، معصیت میں کوئی اطاعت نہیں۔