(۱۶۶۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّی بْنُ زِیَادٍ وَہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ ضَبَّۃَ بْنِ مِحْصَنٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّہَا سَتَکُونُ عَلَیْکُمْ أَئِمَّۃٌ تَعْرِفُونَ مِنْہُمْ وَتُنْکِرُونَ فَمَنْ أَنْکَرَ ۔ قَالَ ہِشَامٌ : بِلِسَانِہِ فَقَدْ بَرِئَ وَمَنْ کَرِہَ بِقَلْبِہِ فَقَدْ سَلِمَ لَکِنْ مَنْ رَضِیَ وَتَابَعَ ۔ قَالَ قِیلَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَفَلاَ نَقْتُلُہُمْ؟ قَالَ : لاَ مَا صَلَّوْا ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ بِلِسَانِہِ وَلاَ بِقَلْبِہِ وَإِنَّمَا ہُوَ قَوْلُ الْحَسَنِ۔ [صحیح]
(١٦٦٢٠) ام سلمہ فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا : عنقریب ایسے ائمہ آئیں گے ان کی تعریف بھی کریں گے اور ان کا انکار بھی، ہشام نے کہا : جس نے اپنی زبان سے انکار کیا وہ بری ہوگیا اور جس نے دل سے برا جانا وہ سالم رہا لیکن جو راضی ہوگیا اور ان کی پیروی کی۔ پوچھا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا ہم ان سے قتال نہ کریں ؟ فرمایا : نہیں جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں۔