(۱۶۷۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ کُہَیْلٍ أَخْبَرَنِی زَیْدُ بْنُ وَہْبٍ الْجُہَنِیُّ : أَنَّہُ کَانَ فِی الْجَیْشِ الَّذِینَ کَانُوا مَعَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الَّذِینَ سَارُوا إِلَی الْخَوَارِجِ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : یَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِی قَوْمٌ یَقْرَئُ ونَ الْقُرْآنَ لَیْسَتْ قِرَائَ تُکُمْ إِلَی قِرائَ تِہِمْ بِشَیْئٍ وَلاَ صَلاَتُکُمْ إِلَی صَلاَتِہِمْ بِشَیْئٍ وَلاَ صِیَامُکُمْ إِلَی صِیَامِہِمْ بِشَیْئٍ یَقْرَئُ ونَ الْقُرْآنَ لاَ تُجَاوِزُ صَلاَتُہُمْ تَرَاقِیَہُمْ یَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلاَمِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنْ الرَّمِیَّۃِ ۔ لَوْ یَعْلَمُ الْجَیْشُ الَّذِینَ یُصِیبُونَہُمْ مَا قَضَی اللَّہُ لَہُمْ عَلَی لِسَانِ نَبِیِّہِمْ -ﷺ- لاَتَّکَلُوا عَنِ الْعَمَلِ وَآیَۃُ ذَلِکَ أَنَّ فِیہِمْ رَجُلاً لَہُ عَضُدٌ وَلَیْسَتْ لَہُ ذِرَاعٌ عَلَی عَضُدِہِ مِثْلُ حَلَمَۃِ ثَدْیِ الْمَرْأَۃِ عَلَیْہَا شَعَرَاتٌ بِیضٌ فَتَذْہَبُونَ إِلَی مُعَاوِیَۃَ وَأَہْلِ الشَّامِ وَتَتْرُکُونَ ہَؤُلاَئِ یَخْلُفُونَکُمْ فِی ذَرَارِیِّکُمْ وَأَمْوَالِکُمْ وَاللَّہِ إِنِّی لأَرْجُو أَنْ یَکُونُوا ہَؤُلاَئِ الْقَوْمَ فَإِنَّہُمْ قَدْ سَفَکُوا الدَّمَ وَأَغَارُوا فِی سَرْحِ النَّاسِ فَسِیرُوا عَلَی اسْمِ اللَّہِ۔ قَالَ سَلَمَۃُ : فَنَزَّلَنِی زَیْدُ بْنُ وَہْبٍ مَنْزِلاً مَنْزِلاً حَتَّی قَالَ مَرَرْنَا عَلَی قَنْطَرَۃٍ قَالَ فَلَمَّا الْتَقَیْنَا وَعَلَی الْخَوَارِجِ یَوْمَئِذٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ الرَّاسِبِیُّ فَقَالَ لَہُمْ : أَلْقُوا الرِّمَاحَ وَسُلُّوا سُیُوفَکُمْ مِنْ جُفُونِہَا فَإِنِّی أَخَافُ أَنْ یُنَاشِدُوکُمْ کَمَا نَاشَدُوکُمْ یَوْمَ حَرُورَائَ فَرَجَعْتُمْ قَالَ فَوَحَّشُوا بِرِمَاحِہِمْ وَسَلُّوا السُّیُوفَ وَشَجَرَہُمُ النَّاسُ بِرِمَاحِہِمْ قَالَ فَقَتَلَ بَعْضُہُمْ عَلَی بَعْضٍ وَمَا أُصِیبَ مِنَ النَّاسِ یَوْمَئِذٍ إِلاَّ رَجُلاَنِ۔ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الْتَمِسُوا فِیہِمُ الْمُخْدَجَ فَلَمْ یَجِدُوہُ فَقَامَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِنَفْسِہِ فَالْتَمَسَہُ فَوَجَدَہُ فَقَالَ : صَدَقَ اللَّہُ وَبَلَّغَ رَسُولُہُ فَقَامَ إِلَیْہِ عَبِیدَۃُ السَّلْمَانِیُّ فَقَالَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ اللَّہُ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ لَسَمِعْتَ ہَذَا الْحَدِیثَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ إِیْ وَاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ حَتَّی اسْتَحْلَفَہُ ثَلاَثًا وَہُوَ یَحْلِفُ لَہُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح]
(١٦٧٠٠) زید بن وہب جہنی جو حضرت علی کے ساتھ خوارج کے ساتھ جنگ میں شریک تھے فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : اے لوگو ! میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا، آپ نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن پڑھیں گے نماز پڑھیں گے، روزے رکھیں گے، لیکن ان کے یہ اعمال کوئی چیز نہیں ہوں گے۔ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن یہ ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے اور جو ان سے جہاد کرے گا اس کے لیے اجر ہے تو وہ اسی عمل پر توکل کرلے، ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک شخص ہوگا جس کے بازو کی ذراع نہیں ہوگی اور اس کے بازو عورت کے پستان جیسا گوشت ہوگا، اس کے سفید بال ہوں گے۔ تم معاویہ اور اہل شام کی طرف جاؤ گے اور انھیں پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ جاؤ گے اور مجھے امید ہے انھوں نے خون بہایا ہے اور لوگوں میں قتل و غارت کی ہے؛ لہٰذا اللہ کا نام لے کر چلو۔ وہ خوارج سے ملے ان سے لڑائی ہوئی اور ان میں سے صرف ٢ آدمی بچے تو حضرت علی نے فرمایا : اس پھولے ہوئے بازو والے آدمی کو تلاش کرو لوگوں نے تلاش کیا تو نہ ملا۔ حضرت علی خود گئے تو مل گیا تو فرمایا : اللہ نے سچ فرمایا ہے اور اس کے رسول نے پہنچا دیا تو عبیدہ سلمانی فرمانے لگے : اے امیر المؤمنین ! اللہ کی قسم ! آپ کو کیا ہوا۔ آپ نے یہ حدیث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے ؟ فرمایا : ہاں اللہ کی قسم اور تین مرتبہ قسم اٹھائی۔