(۱۶۷۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ قَالَ : بَیْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ یَقْسِمُ قَسْمًا أَتَاہُ ذُو الْخُوَیْصِرَۃِ وَہُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ اعْدِلْ فَقَالَ : وَیْحَکَ وَمَنْ یَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ لَقَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَکُنْ أَعْدِلْ ۔ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ ائْذَنْ لِی فِیہِ أَضْرِبْ عُنُقَہُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : دَعْہُ فَإِنَّ لَہُ أَصْحَابًا یَحْقِرُ أَحَدُکُمْ صَلاَتَہُ مَعَ صَلاَتِہِمْ وَصِیَامَہُ مَعَ صِیَامِہِمْ یَقْرَئُ ونَ الْقُرْآنَ لاَ یَجُوزُ تَرَاقِیَہُمْ یَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلاَمِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ یُنْظَرُ إِلَی نَصْلِہِ فَلاَ یُوجَدُ فِیہِ شَیْء ٌ ثُمَّ یُنْظَرُ إِلَی رِصَافِہِ فَلاَ یُوجَدُ فِیہِ شَیْء ٌ ثُمَّ یُنْظَرُ إِلَی نَضِیِّہِ وَہُوَ قِدْحُہُ فَلاَ یُوجَدُ فِیہِ شَیْء ٌ ثُمَّ یُنْظَرُ إِلَی قُذَذِہِ فَلاَ یُوجَدُ فِیہِ شَیْء ٌ قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ آیَتُہُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ إِحْدَی عَضُدَیْہِ مِثْلُ ثَدْیِ الْمَرْأَۃِ وَمِثْلُ الْبَضْعَۃِ تَدَرْدَرُ یَخْرُجُونَ عَلَی حِینِ فُرْقَۃٍ مِنَ النَّاسِ ۔ قَالَ أَبُو سَعِیدٍ : فَأَشْہَدُ أَنِّی سَمِعْتُ ہَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَأَشْہَدُ أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَاتَلَہُمْ وَأَنَا مَعَہُ فَأَمَرَ بِذَلِکَ الرَّجُلِ فَالْتُمِسَ فَأُتِیَ بِہِ حَتَّی نَظَرْتُ إِلَیْہِ عَلَی نَعْتِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الَّذِی نَعَتَہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ وَالضَّحَّاکِ الْہَمْدَانِیِّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ۔ [صحیح]
(١٦٧٠٢) ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے اور آپ کچھ تقسیم فرما رہے تھے تو ذو الخویصرہ آیا۔ یہ بنو تمیم کا ایک شخص تھا، کہنے لگا : یا رسول اللہ ! انصاف کریں تو آپ نے فرمایا : تو برباد ہو اگر میں عدل نہیں کروں گا تو اور کون کرے گا تو تو برباد ہوگیا، خسارے میں پڑگیا، اگر میں عدل نہ کروں تو حضرت عمر نے فرمایا : مجھے اجازت دیں میں اسے قتل کر دوں تو آپ نے فرمایا : اسے چھوڑ دو اس کے ایسے اصحاب ہوں گے کہ تم جن کی نمازوں اور روزوں کے سامنے اپنی نمازوں اور روزوں کو حقیر سمجھو گے۔ قرآن ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے اور ان میں ایسا شخص ہوگا جس کے بازو پر عورت کے پستان کی طرح گوشت ہوگا، ان کا خروج اس وقت ہوگا جب لوگ تفرقہ میں پڑجائیں گے، ابو سعید کہتے ہیں : میں نے یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا اور حضرت علی (رض) اور میں نے ان کے خلاف جہاد بھی کیا اور اس آدمی کو تلاش بھی کیا اور وہ اس میں صفات بھی دیکھیں جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمائی تھیں۔